जहर की जर्मी में है रोपा , अभी खींचे सौ बार। कबिरा खलक न तजे , जामे कौन विचार॥

“In the seed of poison, it has been planted, which will be pulled a hundred times. Who can think of a detachment from the cycle of birth and death, O Kabir's world?”

— کبیر
معنی

زہر کے بیج میں لگا ہے، جسے سو بار کھینچا جائے گا۔ اے کبیر کی دنیا، جنم و موت کے چکر سے کون چھٹکارے کا خیال کر سکتا ہے؟

تشریح

یہ شعر ایک گہرے فلسفیانہ سوال سے آغاز کرتا ہے، جس میں زندگی کی حقیقت کو ایک ایسے بیج کے ذریعے دکھایا گیا ہے جو زہر کی زمین میں لگایا گیا ہے۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ انسانی وجود اور اس کا جدوجہد، موت کے چکر سے کبھی مکمل طور پر جدا نہیں ہو سکتا۔ शायر پوچھتے ہیں کہ اس دنیا کا ہر وجود اسی جنم-مرتوبھ کے جال میں پھنسا ہوا ہے، اور اس بندھن سے نکلنے کا خیال کرنا کتنا مشکل ہے۔ کबीर ہمیں زندگی کی تقدیر اور اس سے بھاگنے کی انسانی ناتوانی کا احساس دلاتے ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

← Prev16 / 10