कबीरा ते नर अन्ध है , गुरु को कहते और। हरि रूठे गुरु ठौर है , गुरु रुठै नहीं ठौर॥
“The man, Kabiira, is blind, he says it to the Guru. He says the Lord is upset, and the Guru is the place. But the Guru is not upset, and there is no place.”
— کبیر
معنی
کبیرا کہتا ہے کہ انسان اندھا ہے اور وہ یہ بات گرو سے کہتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ہرن (خدا) ناراض ہیں اور گرو ہی ان کا ٹھکانہ ہے، مگر حقیقت میں گرو ناراض نہیں ہوتے اور کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا۔
تشریح
یہ شعر ایک گہری تضاد کو پیش کرتا ہے۔ جب انسان خود کو اندھا مان کر اساتذہ کو نصیحت کرتا ہے، تو وہ دراصل علم کے اصل منبع سے دور ہو جاتا ہے۔ کبیر کہتے ہیں کہ خدا کا ناراض ہونا کسی مخصوص جگہ کا معاملہ نہیں؛ یہ صرف دل کی کیفیت پر منحصر ہے۔ ہمیں بیرونی حالات یا مقامات کو الزام دینے کے بجائے، اندرونی بیداری پر توجہ دینی چاہیے، جو کہ کبیر کی تعلیم کا بنیادی نکتہ ہے۔
← Prev12 / 10
