Sukhan AI
सोना , सज्जन , साधु जन , टूट जुड़ै सौ बार। दुर्जन कुम्भ कुम्हार के , ऐके धका दरार॥ 103॥

O gold, noble, saintly soul, though broken and mended a hundred times, The wicked, like a potter, give a single, deep crack.

کبیر
معنی

اے سونا، ساجن، صلہی جان، ٹوٹ کر جڑ سکتے ہیں سو بار۔ مگر درجن شخص، کوٹھری کی طرح، ایک ہی وار میں دراڑ دے سکتے ہیں۔

تشریح

کبیر نے اس شعر میں سونے اور کوٹھاری کے ذریعے انسانی صبر اور نفاست کی تصویر کشی کی ہے۔ سونا، جو نبل و سیرت کی علامت ہے، بار بار ٹوٹ کر جوڑنے کا حوصلہ دکھاتا ہے، پھر بھی وہ مضبوط رہتا ہے۔ مگر درجن شخص، جو ایک بے پرواہ کوٹھاری کی مانند ہے، صرف ایک گہرا دھکا دے کر اس میں دراڑ ڈال سکتا ہے۔ کبیر کا یہ پیغام ہے کہ بیرونی نکتہ کار منفی اثرات اندرونی سکون کو سب سے زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں۔

آڈیو

تلاوت
ہندی معنیIn app
انگریزی معنیIn app
ہندی تشریحIn app
انگریزی تشریحIn app