“Where were these haughty airs before, this coquetry and grace? Give blessings to my heart, for it has made a slayer of you.”
پہلے تم میں یہ نخرے، ادائیں اور غمزے کہاں تھے؟ تم میرے دل کو دعائیں دو جس نے تمہیں قاتل بنا دیا ہے۔
اس شعر میں عاشق بڑی شوخی اور اپنائیت سے محبوب کو چھیڑتے ہوئے کہتا ہے کہ تمہارے اندر یہ سحر انگیز ناز و ادا اور نخرا پہلے تو کبھی نہ تھا۔ تمہیں تو میرے دل کا احسان مند ہونا چاہیے اور اسے دعائیں دینی چاہئیں، جس نے تم پر جان نچھاور کر کے تمہیں دلوں کا 'قاتل' بنا دیا۔ یعنی محبوب کے حسن کی رعنائی اور دبدبہ دراصل عاشق کے بے پناہ عشق اور قربانی کا ہی مرہونِ منت ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
