“A poet am I, a poet indeed, this era belongs to me; Nature is my looking-glass, and Creation is my comb.”
میں ایک شاعر ہوں اور یہ سارا دور میرا ہی ہے؛ فطرت میرا آئینہ ہے اور قدرت میری کنگھی ہے۔
اس شعر میں شاعر بڑے فخر اور والہانہ انداز میں اپنی تخلیقی عظمت کا اعلان کرتا ہے کہ دنیا کے ہر دور پر اصل راج فن اور احساس کا ہی ہوتا ہے۔ فطرت کو آئینہ اور قدرت کو شانہ یعنی کنگھی کہنا ایک لاجواب استعارہ ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاعر کائنات کے حسن میں اپنا عکس دیکھتا ہے اور قدرت خود اس کی سوچ کو سنوارتی ہے۔ یہ شعر فنکار کے اس گہرے رشتے کو بیان کرتا ہے جو دنیاوی پیمانوں سے آزاد ہو کر سیدھا کائنات سے جڑ جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
