“Countless are the tears that well within the eyes, O Jigar, yet know: That which crystallizes turns to pearl; that which remains is merely grain.”
اے جگر، آنکھوں میں آنسو تو بہت ہیں، لیکن جو بندھ کر قطرہ بن جائے وہی موتی ہے اور جو یونہی رہ جائے وہ صرف ایک دانہ ہے۔
جگرؔ مراد آبادی اس شعر میں غم اور جذبات کی قدر و قیمت کو ایک دلکش استعارے سے بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آنکھوں میں آنسو تو بے شمار ہوتے ہیں مگر ہر قطرہ قیمتی نہیں ہوتا؛ جو آنسو سنور کر ضبط، وقار اور فن کا روپ دھار لے وہی سچا موتی بنتا ہے، ورنہ باقی محض بے وقعت دانے کی طرح رہ جاتے ہیں۔ یہ شعر سکھاتا ہے کہ انسان کا درد بھی تبھی انمول بنتا ہے جب اسے سلیقے سے سمیٹا اور پروان چڑھایا جائے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
