خود حسن و شباب ان کا کیا کم ہے رقیب اپنا جب دیکھیے اب وہ ہیں آئینہ ہے شانا ہے

“Are their own youth and beauty not rival enough to fear? Whenever seen, there is but them, a mirror, and a comb.”

— جگر مرادآبادی
معنی

ان کا اپنا حسن اور جوانی ہی ہمارے لیے کسی رقیب سے کم نہیں ہے، اب جب بھی دیکھو وہ ہیں، آئینہ ہے اور کنگھی ہے۔

تشریح

شاعر کتنے خوبصورت اور دلکش انداز میں شکوہ کر رہا ہے کہ محبوب کی توجہ پانے کے لیے کسی دوسرے رقیب کی ضرورت ہی نہیں، بلکہ اس کا اپنا حسن اور جوانی ہی عاشق کے لیے سب سے بڑا حریف بن چکا ہے۔ محبوب جب دیکھو آئینے اور کنگھی کے ساتھ خود کو سنوارنے اور اپنے ہی جلووں میں محو رہنے میں مصروف رہتا ہے۔ اس ناز و ادا نے عاشق کو نظرانداز کر کے اس کے حصے میں صرف حسرت اور انتظار چھوڑ دیا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.