اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانا ہے سمٹے تو دل عاشق پھیلے تو زمانا ہے

“Such is the humble tale of that single word called love: confined, it is the lover's heart; expanded, the entire universe.”

— جگر مرادآبادی
معنی

محبت کے ایک لفظ کا ادنیٰ سا قصہ یہ ہے کہ اگر یہ سمٹ جائے تو عاشق کا دل ہے اور اگر پھیل جائے تو ساری کائنات بن جاتا ہے۔

تشریح

جگر مراد آبادی نے اس شعر میں محبت کے راز اور اس کی بے پناہ وسعت کو کمال خوبصورتی سے سمیٹا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ محبت کا فسانا بظاہر مختصر ہے، مگر جب یہ سمٹتا ہے تو عاشق کے ایک ننھے سے دل میں سما جاتا ہے اور جب پھیلتا ہے تو ساری کائنات کو اپنے دامن میں لے لیتا ہے۔ یہ شعر بتاتا ہے کہ انسان کے باطن کا عشق محض ایک انفرادی جذبہ نہیں بلکہ تمام جہان کی رونق اور اصل حقیقت ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

1 / 22Next →