یا رب ہجوم درد کو دے اور وسعتیں دامن تو کیا ابھی مری آنکھیں بھی نم نہیں

“Grant this throng of grief, O Lord, an even vaster realm; let alone my garment's hem, even my eyes are not yet wet.”

— جگر مرادآبادی
معنی

اے پروردگار، میرے دکھ اور درد کے ہجوم کو اور وسعت دے؛ دامن کا بھیگنا تو دور، ابھی تو میری آنکھیں بھی نم نہیں ہوئی ہیں۔

تشریح

اس شعر میں شاعر خدا سے درد کم کرنے کی التجا نہیں کر رہا، بلکہ اپنے غموں کے ہجوم کو اور وسعت دینے کی دعا مانگتا ہے۔ اس کے صبر اور برداشت کا ظرف اتنا بلند ہے کہ بے پناہ دکھ کے باوجود ابھی اس کی آنکھیں تک نم نہیں ہوئیں، دامن بھیگنا تو دور کی بات ہے۔ یہ شکوہ کرنے کے بجائے غم کو گلے لگانے اور انسان کے غیر معمولی حوصلے کو دل موہ لینے والے انداز میں بیان کرتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.