“O crowd of despair, live long and rejoice! You have made me estranged and oblivious to all.”
اے ناامیدی کے ہجوم، تو خوش اور سلامت رہ کہ تو نے مجھے سب سے بیگانہ اور بے خبر کر دیا ہے۔
یہاں شاعر مایوسی کے ہجوم کو کوسنے کے بجائے طنزیہ طور پر دعائیں اور مبارکباد پیش کر رہا ہے۔ دراصل جب انسان مکمل طور پر ناامید ہو جاتا ہے تو دنیا سے اس کی تمام توقعات اور وابستگیاں ختم ہو جاتی ہیں، جو اسے ایک غیر معمولی سکون بخشتی ہیں۔ اس بے انتہا مایوسی نے شاعر کو زمانے کے جھمیلوں اور رشتوں کے دکھ درد سے بے نیاز کر کے ایک عجیب سی درد بھری آزادی عطا کر دی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
