توڑ کر بیٹھا ہوں راہ شوق میں پائے طلب دیکھنا ہے جذبۂ بے تابئ منزل مجھے

“Breaking the foot of quest, I sit still upon the path of longing; now let me see the restless passion of the destination itself.”

— جگر مرادآبادی
معنی

میں نے شوق کی راہ میں اپنی طلب کا پاؤں توڑ کر چلنا چھوڑ دیا ہے؛ اب مجھے دیکھنا ہے کہ خود منزل کی بے تابی مجھے کس طرح اپنی طرف کھینچتی ہے۔

تشریح

شاعر نے اس شعر میں اپنی طلب اور جستجو کے پاؤں خود توڑ کر راستے ہی میں بیٹھ جانے کی لاجواب تصویر کشی کی ہے۔ عام طور پر مسافر منزل کی طرف لپکتا ہے، مگر یہاں عاشق نے اپنی دوڑ روک کر منزل کو چیلنج کیا ہے کہ اب وہ اپنی بے تابی کا ثبوت دے۔ یہ مایوسی نہیں بلکہ محبت کا وہ پُر وقار اور پُراثر موڑ ہے جہاں سچا طلب گار چاہتا ہے کہ خود منزل اس کی طرف کھنچی چلی آئے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.