اٹھتی نہیں ہے آنکھ مگر اس کے روبرو نادیدہ اک نگاہ کئے جا رہا ہوں میں

“My eyes dare not lift before their face, yet still, an unseen gaze I keep casting all the while.”

— جگر مرادآبادی
معنی

محبوب کے سامنے میری آنکھیں نہیں اٹھتیں، لیکن پھر بھی میں اس پر ایک نادیدہ نظر ڈالے جا رہا ہوں۔

تشریح

اس شعر میں حیا، احترام اور محبت کی بے خودی ایک ساتھ سمٹ آئی ہے۔ محبوب کے سامنے ادب یا جھجھک کی وجہ سے ظاہر میں تو آنکھ اٹھانے کی ہمت نہیں ہوتی، مگر دل کا اضطراب ایسا ہے کہ ایک پوشیدہ نظر مسلسل ان کا دیدار کر رہی ہے۔ یہ دراصل روح کی وہ خاموش نگاہ ہے جو بنا دیکھے بھی اپنے محبوب سے ایک لمحے کے لیے غافل نہیں ہوتی۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.