“Once wine was life, now life itself is wine; someone keeps pouring, and I drink endlessly.”
پہلے شراب ہی زندگی تھی مگر اب زندگی خود شراب بن چکی ہے، کوئی مجھے پلا رہا ہے اور میں پیے جا رہا ہوں۔
یہ شعر وقت کے ساتھ زندگی کے بدلتے ہوئے احساس کو کتنا خوبصورت پیرایہ دیتا ہے۔ پہلے انسان جینے کا لطف تلاش کرنے کے لیے شراب کا سہارا لیتا تھا، مگر اب خود حیات ہی ایک مدہوش کن کیفیت بن چکی ہے۔ اس میں گردشِ دوراں یا اس غائب ساقی کے آگے مکمل سپردگی کا رنگ ہے، جو چپ چاپ تقدیر کے جام بھرے جا رہا ہے اور شاعر اسے خاموشی سے قبول کیے جا رہا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
