“Where is that heart left now, that one could give to love? Bound by sheer helplessness, I merely carry on.”
اب وہ دل کہاں رہا ہے جس سے پیار کیا جا سکے، بس مجبوریوں کے سبب میں ساتھ نبھائے جا رہا ہوں۔
یہ شعر دل کے اس خالی پن اور اداسی کی عکاسی کرتا ہے جب انسان جذباتی طور پر بالکل تھک چکا ہو۔ شاعر کو کسی سے کوئی شکوہ نہیں، بلکہ دکھ اس بات کا ہے کہ زندگی کی تلخیوں نے وہ پرخلوص اور نازک دل ہی چھین لیا جو کبھی محبت کے لائق تھا۔ اب کسی کا ساتھ نبھانا دل کی خوشی سے نہیں، بلکہ مجبوری اور بے بسی کے تحت محض ایک بے روح رسم بن کر رہ گیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
