“No war horns blew, no shehnai echoed clear,No clash of swords in battle did one hear.”
جنگ کے بگل نہیں بجے، نہ ہی شہنائی کی گونج سنائی دی، اور نہ ہی جنگ میں تلواروں کی جھنکار سنائی دی۔
ارے واہ، یہ شعر تو کمال کی تصویر کھینچتا ہے، ہے نا؟ ذرا سوچیں، ایک میدانِ جنگ، لیکن وہاں جنگ کے کوئی عام نشان نہیں ہیں۔ نہ جنگی بگلوں کی گرج، نہ شہنائی کی دھن، اور سب سے حیرت انگیز بات، تلواروں کی جھنکار تک نہیں! یہ ایک عجیب سی خاموشی ہے جو شاید یہ بتاتی ہے کہ جنگ کبھی شروع ہی نہیں ہوئی، یا اتنی تیزی سے ختم ہو گئی کہ شور مچانے کا موقع ہی نہیں ملا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
