“At others' doorsteps, let streams of nectar flow;But drink your poisons, you, alone.”
دوسروں کے آنگن میں امرت کے چشمے بہنے دو، لیکن اپنے زہر کو تم اکیلے ہی پیو۔
ارے واہ، یہ شعر کتنا خوبصورت پیغام دیتا ہے! یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ دوسروں کی دہلیز پر 'امرَت کے چشمے بہائیں'، یعنی ان کی زندگیوں میں خوشیاں اور مٹھاس بھر دیں۔ ہمیشہ دنیا کے ساتھ اپنا بہترین بانٹیں۔ لیکن ساتھ ہی، یہ ہمیں اپنے اندر کے 'زہروں' کو، اپنی ذاتی پریشانیوں اور غموں کو، اکیلے ہی پی لینے کی ہمت بھی یاد دلاتا ہے۔ یہ بے لوثی اور اپنی مشکلات کا سامنا تنہا کرنے کی ایک گہری اور دل کو چھو لینے والی تعلیم ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
