“Perhaps the oil has run out - and I, a fool,Abandoned the lamp-chain, gazing steadfast there.”
شاید تیل ختم ہو گیا ہو گا، اور میں احمق، دیپ مالا کو چھوڑ کر وہیں ٹکٹکی باندھ کر دیکھتا رہا۔
یہ دوہا خود شناسی کے ایک پُراثر لمحے کو خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ شاعر، ایک دیپ مالا کو دیکھتے ہوئے جہاں شاید ایک چراغ کا تیل ختم ہو گیا ہے، خود کو احمق کہتا ہے کیونکہ وہ پوری دیپ مالا کو چھوڑ کر اسی بجھتی یا مدھم پڑتی روشنی کو دیکھتے رہ گیا۔ یہ ہماری اس انسانی فطرت کا ایک استعارہ ہے کہ ہم کسی ایک نقصان یا مدھم ہوتی امید پر جم جاتے ہیں، اور اپنے گرد روشن دیگر چراغوں یا دوبارہ جلا سکنے کے امکان کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہ لطیف خود ملامت ہمیں اپنے نقطہ نظر کو وسیع کرنے اور صرف کمی پر دھیان نہ دینے کی ترغیب دیتی ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
