“Yet the lamps of words Will be eyes for those who've lost their way.”
پھر بھی، لفظوں کے چراغ ان لوگوں کی آنکھیں ہوں گے جو اپنا راستہ بھٹک گئے ہیں۔
یہ خوبصورت شعر ہمیں بتاتا ہے کہ جب ہم راستہ بھٹک جائیں یا زندگی کی تاریکیوں میں کھو جائیں، تو الفاظ ہی ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔ یہاں الفاظ کو 'دیئے' سے تشبیہ دی گئی ہے جو نہ صرف روشنی بکھیرتے ہیں بلکہ اُن بھٹکے ہوئے لوگوں کی 'آنکھیں' بھی بن جاتے ہیں، جو اپنی منزل سے بے خبر ہوں۔ یہ دراصل زبان اور شاعری کی گہری طاقت کو اجاگر کرتا ہے کہ وہ ہمیں مشکلات سے نکال کر درست سمت دکھا سکتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
