“Let my tender sprouts be trampled, crushed: Take the whistling cold, and just depart;”
بھلے ہی میری نازک کونپلیں کچل دی جائیں، تم سیٹی بجاتی ٹھنڈ لے کر چلے جاؤ۔
یہ شعر گہری قربانی اور مایوسی کی ایک دل ہلا دینے والی تصویر پیش کرتا ہے۔ شاعر، جو خود کو نازک، کومل کونپلوں سے تشبیہ دیتا ہے، کچلے اور روندے جانے کے لیے بھی تیار ہے۔ اس کی التجا حفاظت کے لیے نہیں، بلکہ اس بات کے لیے ہے کہ سخت، سسکتی سردی – جو ایک ناقابلِ برداشت درد یا تباہ کن موجودگی کا استعارہ ہے – بس چلی جائے، چاہے اس میں اس کی اپنی تباہی ہی کیوں نہ ہو۔ یہ کسی ایسے شخص کے گہرے کرب کو ظاہر کرتا ہے جو دکھ سے اتنا تھک چکا ہے کہ وہ اپنے ظلم کرنے والے کے جانے کے بدلے اپنی مکمل تباہی کو بھی قبول کر لے گا۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
