“The fool forsakes sweet slumber, chews on fritters cold;He gives his milk to strangers, then brings his own flour mold. -Alas.”
مورخ میٹھی نیند چھوڑ دیتا ہے اور ٹھنڈے بھجئے کھاتا ہے۔ وہ دوسروں کو دودھ پلاتا ہے، لیکن اپنے لئے سڑا ہوا آٹا لاتا ہے۔
یہ دوہا ایک ایسے احمق شخص کی دلگداز تصویر پیش کرتا ہے جو اپنی راحت اور سکون کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ وہ اپنی میٹھی نیند قربان کرکے ٹھنڈے اور بے ذائقہ پکوڑے کھاتا ہے، جو خود کی غفلت کی علامت ہے۔ اس کا گہرا مطلب اس استعارے میں پوشیدہ ہے کہ وہ اپنا پرورش دینے والا 'دودھ' اجنبیوں کو دے دیتا ہے، اور آخر میں پاتا ہے کہ اس کا اپنا 'آٹا' سڑ چکا ہے۔ یہ ہمیں اس غلط سمت میں کی گئی سخاوت کے خلاف نرمی سے خبردار کرتا ہے، جہاں ایک شخص دوسروں کے لیے اپنے تمام وسائل خرچ کر دیتا ہے، جس سے اس کے اپنے لیے صرف مشکلات اور محرومی ہی باقی رہ جاتی ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
