“The world will taunt: 'The self-knower did not arrive!'The proud one did not appear, having recognized his own flaw!”
دنیا طعنے دے گی کہ 'خود شناس نہیں آیا!' غرور کرنے والا نہیں آیا، کیونکہ اس نے اپنی خامی کو پہچان لیا تھا۔
یہ شعر ہماری توقعات کے ساتھ خوبصورتی سے کھیلتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ جس "خود شناس" کا دنیا بے صبری سے انتظار کر رہی تھی، وہ نہیں آیا کیونکہ "متکبر" شخص – شاید وہی شخص – نے اپنی خامیوں کو پہچان لیا تھا اور ایک شاندار ظہور سے گریز کیا۔ یہ ایک گہرا خیال ہے: حقیقی خود شناسی اکثر انکساری اور خاموش گوشہ نشینی کی طرف لے جاتی ہے، نہ کہ دنیاوی ستائش حاصل کرنے کی طرف۔ دنیا بھلے ہی ان کی عدم موجودگی کا مذاق اڑائے، لیکن گہرا عرفان اسی فیصلے میں پنہاں ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
