कभी हैरत कभी मस्ती कभी आह-ए-सहर-गाही
बदलता है हज़ारों रंग मेरा दर्द-ए-महजूरी
“Sometimes astonishment, sometimes merriment, sometimes the sigh of dawn-hours, My pain of abandonment changes in thousands of colors.”
— علامہ اقبال
معنی
کبھی حیرت کبھی مستی کبھی آہِ سحر گاہی، بدلتا ہے ہزاروں رنگ میرا دردِ مہجوری۔
تشریح
یہ شعر محبت کے درد کی کیفیت کو بیان کرتا ہے۔ شاعر کہہ رہے ہیں کہ جدائی کا درد کوئی ایک حالت نہیں، بلکہ یہ کئی رنگوں میں بدلتا رہتا ہے— کبھی حیرت، کبھی نشہ، اور کبھی صبح کی آہ کی طرح۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
