غزل
की हक़ से फ़रिश्तों ने 'इक़बाल' की ग़म्माज़ी
की हक़ से फ़रिश्तों ने 'इक़बाल' की ग़म्माज़ी
یہ غزل علامہ اقبال کی ادبی اور روحانی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ فرشتوں نے بھی ان کی گمازی (الہام/جذبہ) کی ہے۔ اس میں ان کی منفرد فطرت کا بیان ہے، جو خاکی ہوتے ہوئے بھی افلاکی انداز رکھتے ہیں، اور آدم کو خداوندی آداب سکھاتے ہیں۔
نغمہ سنیں
1
की हक़ से फ़रिश्तों ने 'इक़बाल' की ग़म्माज़ी
गुस्ताख़ है करता है फ़ितरत की हिना-बंदी
کی حق سے فرشتوں نے اقبالؔ کی غمازی
گستاخ ہے کرتا ہے فطرت کی حنا بندی
حق سے فرشتوں نے ’اقبال‘ کی گمازی؛ / گستاخ ہے کرتا ہے فطرت کی حنا-بندی।
2
ख़ाकी है मगर इस के अंदाज़ हैं अफ़्लाकी
रूमी है न शामी है काशी न समरक़ंदी
خاکی ہے مگر اس کے انداز ہیں افلاکی
رومی ہے نہ شامی ہے کاشی نہ سمرقندی
یہ کھاکی ہے مگر اس کے انداز ہیں افلاکی؛ رومی ہے نہ شامی ہے نہ کاشی نہ سمرقندی۔
3
सिखलाई फ़रिश्तों को आदम की तड़प उस ने
आदम को सिखाता है आदाब-ए-ख़ुदावंदी
سکھلائی فرشتوں کو آدم کی تڑپ اس نے
آدم کو سکھاتا ہے آداب خداوندی
اس نے فرشتوں کو آدم کی تڑپ سکھائی، اور آدم کو آدابِ خداوندی سکھاتا ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
