غزل
फ़ितरत को ख़िरद के रू-ब-रू कर
फ़ितरत को ख़िरद के रू-ब-रू कर
یہ غزل انسان کی اپنی فطرت اور مادی لالچ کے تصادم پر مبنی ہے۔ یہ سچے وجود سے دوبارہ جڑنے کی ترغیب دیتی ہے، جو بیرونی ظاہری شکلوں اور عارضی خواہشات کے جادو سے نکل جائے۔ مرکزی خیال خود کی تلاش اور باطنی سکون حاصل کرنا ہے۔
نغمہ سنیں
1
फ़ितरत को ख़िरद के रू-ब-रू कर
तस्ख़ीर-ए-मक़ाम-ए-रंग-ओ-बू कर
فطرت کو خرد کے روبرو کر
تسخیر مقام رنگ و بو کر
اپنی فطرت کے خلاف جا کر، دولت کی خرید سے رنگ و بو کے مقام کو تابع کر۔
2
तू अपनी ख़ुदी को खो चुका है
खोई हुई शय की जुस्तुजू कर
تو اپنی خودی کو کھو چکا ہے
کھوئی ہوئی شے کی جستجو کر
تُو اپنی خودی کو کھو چکا ہے، کھوئی ہوئی شے کی جستجو کر۔
3
तारों की फ़ज़ा है बे-कराना
तू भी ये मक़ाम-ए-आरज़ू कर
تاروں کی فضا ہے بیکرانہ
تو بھی یہ مقام آرزو کر
تاروں کی فضا ہے بے کرانہ، تو بھی یہ مقامِ آرزو کر۔ (یعنی، ماحول ستاروں جیسا بے پایاں ہے، لہٰذا تمہیں بھی خواہشات کا یہ مقام حاصل کرنا چاہیے۔)
4
उर्यां हैं तिरे चमन की हूरें
चाक-ए-गुल-ओ-लाला को रफ़ू कर
عریاں ہیں ترے چمن کی حوریں
چاک گل و لالہ کو رفو کر
تمہارے باغ کے کنارے کی حوریں پکار رہی ہیں، گل اور لالی کے پہیے کو اٹھانے کے لیے۔
5
बे-ज़ौक़ नहीं अगरचे फ़ितरत
जो उस से न हो सका वो तू कर
بے ذوق نہیں اگرچہ فطرت
جو اس سے نہ ہو سکا وہ تو کر
اگر فطرت میں کوئی خامی نہ ہو، تو وہ کام کر جو اس سے نہیں ہو سکا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
