غزل
अक़्ल गो आस्ताँ से दूर नहीं
अक़्ल गो आस्ताँ से दूर नहीं
یہ غزل بتاتی ہے کہ عقل کسی بھی آستانے سے دور نہیں ہے۔ شاعر مشورہ دیتے ہیں کہ دل کو بھی خدا سے طلب کرنا چاہیے، کیونکہ آنکھ کا نور اور دل کا نور ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے۔ یہ غزل علم اور سرور کے سنگم پر بات کرتی ہے، اور یہ دکھ کرتی ہے کہ آج کے زمانے میں صاحبِ سرور کا کوئی نہیں ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
अक़्ल गो आस्ताँ से दूर नहीं
उस की तक़दीर में हुज़ूर नहीं
عقل گو آستانہ سے دور نہیں। / اس کی تقدیر میں حضور نہیں।
2
दिल-ए-बीना भी कर ख़ुदा से तलब
आँख का नूर दिल का नूर नहीं
بصیرت سے عاری دل کو بھی خدا سے مانگنا چاہیے؛ آنکھ کی چمک دل کی چمک نہیں ہوتی۔
3
इल्म में भी सुरूर है लेकिन
ये वो जन्नत है जिस में हूर नहीं
علم میں بھی سُرور ہے، لیکن یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں ہیں۔
4
क्या ग़ज़ब है कि इस ज़माने में
एक भी साहब-ए-सुरूर नहीं
کاش! کیا عجیب بات ہے کہ اس زمانے میں ایک بھی صاحبِ سرور نہیں ہے۔
5
इक जुनूँ है कि बा-शुऊर भी है
इक जुनूँ है कि बा-शुऊर नहीं
ایک جنون ہے کہ با-شعور بھی ہے
ایک جنون ہے کہ با-شعور نہیں
6
ना-सुबूरी है ज़िंदगी दिल की
आह वो दिल कि ना-सुबूर नहीं
زندگی دل کی نا-صبر ہے۔ آہ وہ دل کہ نا-صبر نہیں ہے۔ (مطلب: زندگی کے دل میں بے چینی ہے، وہ دل بے صب نہیں ہے۔)
7
बे-हुज़ूरी है तेरी मौत का राज़
ज़िंदा हो तू तो बे-हुज़ूर नहीं
تیرے موت کا راز تیری غیر حاضری میں ہے؛ اگر تو زندہ ہے، تو غیر حاضری نہیں ہے۔
8
हर गुहर ने सदफ़ को तोड़ दिया
तू ही आमादा-ए-ज़ुहूर नहीं
ہر جوہر نے صدف کو توڑ دیا ہے، مگر تم ہی صبح کے طلوع نہیں ہو۔
9
अरिनी मैं भी कह रहा हूँ मगर
ये हदीस-ए-कलीम-ओ-तूर नहीं
ارینی، میں بھی کہہ رہا ہوں، مگر یہ کلیم و طور کی حدیث نہیں ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
