زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالبؔ — مرزا غالب
“When life has passed in such a wretched state, O Ghalib; why should we even care to recall that we once had a God?”
معنی
اے غالب! جب ہماری زندگی اس قدر برے حال اور تکلیف میں گزری ہے، تو ہم بھلا کیا یاد کریں گے کہ ہمارا کوئی خدا بھی تھا۔
تشریح
اس شعر میں غالبؔ نے عمر بھر کی محرومیوں اور کٹھن حالات کو خدا کے حضور ایک پُراثر اور بے باک شکوے کی صورت میں ڈھالا ہے۔ وہ تلخ لہجے میں فرماتے ہیں کہ جب پوری زندگی اتنی بے بسی، دکھ اور تنگی میں بیت گئی، تو اب یہ یاد کر کے کیا فائدہ کہ ہمارا بھی کوئی پروردگار تھا۔ یہ دراصل انکارِ خدا نہیں بلکہ ایک ستم رسیدہ انسان کا اپنے خالق سے وہ روٹھنا ہے، جہاں ضبط ٹوٹنے پر گلہ بھی اپنائیت بن کر نکلتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
