غزل
زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالبؔ
زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالبؔ
یہ غزل زندگی کی تلخ ترین مصیبتوں، مسلسل محرومیوں اور وجودی کرب کی ایک دلدوز تصویر کشی ہے۔ اس میں غالبؔ نے انتہائی حزن اور طنزیہ انداز میں حیات کے آلام کا نوحہ کیا ہے، جہاں مصائب کے تسلسل نے خدائی سہارے کے تصور پر بھی مایوسی کی دھند طاری کر دی ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
ज़िंदगी अपनी जब इस शक्ल से गुज़री 'ग़ालिब'
हम भी क्या याद करेंगे कि ख़ुदा रखते थे
زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالبؔ
ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
اے غالب! جب ہماری زندگی اس قدر برے حال اور تکلیف میں گزری ہے، تو ہم بھلا کیا یاد کریں گے کہ ہمارا کوئی خدا بھی تھا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
