غزل
وہ فراق اور وہ وصال کہاں
وہ فراق اور وہ وصال کہاں
یہ غزل محبت کے ماضی کے گہرے تجربات، خواہ وہ فراق ہو یا وصال، کے مٹ جانے پر افسوس کا اظہار کرتی ہے۔ شاعر پوچھتا ہے کہ وہ پرجوش راتیں اور دن کہاں چلے گئے، اور موجودہ وقت میں عشق کی جستجو یا حسن کے نظارے کی فرصت اور ذوق کی کمی پر غمگین ہے۔ یہ غزل ایک دلفریب نوستالجیا اور جوانی کے ولولے کے مدھم پڑ جانے کے احساس کو اجاگر کرتی ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
वो फ़िराक़ और वो विसाल कहाँ
वो शब-ओ-रोज़ ओ माह-ओ-साल कहाँ
وہ فراق اور وہ وصال کہاں
وہ شب و روز و ماہ و سال کہاں
وہ جدائی اور وصال کے لمحات کہاں چلے گئے، اور وہ راتیں، دن، مہینے اور سال کہاں ہیں؟ یہ گزرے ہوئے وقت اور کھوئی ہوئی کیفیات کا ماتم ہے۔
2
फ़ुर्सत-ए-कारोबार-ए-शौक़ किसे
ज़ौक़-ए-नज़्ज़ारा-ए-जमाल कहाँ
فرصت کاروبار شوق کسے
ذوق نظارۂ جمال کہاں
کسے عشق اور شوق کے کاروبار کے لیے فرصت ہے؟ اور حسن کے نظارے کا ذوق کہاں رہا؟
3
दिल तो दिल वो दिमाग़ भी न रहा
शोर-ए-सौदा-ए-ख़त्त-ओ-ख़ाल कहाँ
دل تو دل وہ دماغ بھی نہ رہا
شور سودائے خط و خال کہاں
دل تو دل، وہ دماغ بھی اب پہلے جیسا نہیں رہا۔ چہرے کے خط و خال کے لیے وہ شور و سودا اب کہاں ہے؟
4
थी वो इक शख़्स के तसव्वुर से
अब वो रानाई-ए-ख़याल कहाँ
تھی وہ اک شخص کے تصور سے
اب وہ رعنائی خیال کہاں
وہ خوبصورتی کسی ایک شخص کے تصور سے پیدا ہوئی تھی۔ اب اُس خیال کی وہ رعنائی کہاں؟
5
ऐसा आसाँ नहीं लहू रोना
दिल में ताक़त जिगर में हाल कहाँ
ایسا آساں نہیں لہو رونا
دل میں طاقت جگر میں حال کہاں
لہو رونا اتنا آسان نہیں ہے۔ دل میں اتنی طاقت کہاں اور جگر میں وہ حال یا حوصلہ کہاں کہ ایسا گہرا دکھ سہ سکے اور بیان کر سکے؟
6
हम से छूटा क़िमार-ख़ाना-ए-इश्क़
वाँ जो जावें गिरह में माल कहाँ
ہم سے چھوٹا قمار خانۂ عشق
واں جو جاویں گرہ میں مال کہاں
ہم نے عشق کا قمار خانہ چھوڑ دیا ہے۔ اب اگر ہم وہاں جائیں تو ہماری گرہ میں مال کہاں ہے؟
7
फ़िक्र-ए-दुनिया में सर खपाता हूँ
मैं कहाँ और ये वबाल कहाँ
فکر دنیا میں سر کھپاتا ہوں
میں کہاں اور یہ وبال کہاں
میں دنیاوی فکروں میں اپنا سر کھپاتا ہوں (یعنی خود کو بہت زیادہ تھکاتا ہوں)۔ میں کہاں اور یہ وبال/مصیبتیں کہاں؟ (یہاں شاعر اپنے آپ کو ان جھنجھٹوں سے الگ یا نامناسب محسوس کر رہا ہے)۔
8
मुज़्महिल हो गए क़वा ग़ालिब
वो अनासिर में ए'तिदाल कहाँ
مضمحل ہو گئے قویٰ غالب
وہ عناصر میں اعتدال کہاں
اے غالب، میری تمام قوّتیں (جسمانی و ذہنی صلاحیتیں) کمزور ہو گئی ہیں۔ میرے وجود کے عناصر میں وہ اعتدال اور توازن اب کہاں رہا؟
9
बोसे में वो मुज़ाइक़ा न करे
पर मुझे ताक़त-ए-सवाल कहाँ
بوسہ میں وہ مضائقہ نہ کرے
پر مجھے طاقت سوال کہاں
شاید وہ بوسہ دینے میں اعتراض نہ کرے، مگر مجھ میں سوال کرنے کی طاقت ہی کہاں ہے؟
10
फ़लक-ए-सिफ़्ला बे-मुहाबा है
इस सितम-गर को इंफ़िआल कहाँ
فلک سفلہ بے محابا ہے
اس ستمگر کو انفعال کہاں
یہ نیچ آسمان بالکل بے شرم ہے؛ اس ظالم کو شرمندگی کہاں ہوگی؟
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
