غزل
تم جانو تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو
تم جانو تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو
یہ غزل محبوب کی بے رخی اور دوسروں سے تعلقات کی وجہ سے عاشق کی گہری ملکیت اور تکلیف کو بیان کرتی ہے۔ شاعر محبوب کی آزادی کو تسلیم کرتا ہے لیکن اس کی توجہ کا خواہاں ہے، اور رقیب کے افعال میں اس کی ملی بھگت اور اس کے خدائی لیکن ظالم مزاج پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔ گہری حسد واضح ہے، جہاں شاعر محبوب کی ایک جھلک بھی کسی اور کی نظر پڑنے سے ڈرتا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
तुम जानो तुम को ग़ैर से जो रस्म-ओ-राह हो
मुझ को भी पूछते रहो तो क्या गुनाह हो
تمہیں معلوم ہے کہ تمہارے دوسروں کے ساتھ کیا رشتے یا رسم و رواج ہیں۔ مجھے بھی پوچھتے رہو تو اس میں کیا گناہ ہوگا؟
2
बचते नहीं मुवाख़ज़ा-ए-रोज़-ए-हश्र से
क़ातिल अगर रक़ीब है तो तुम गवाह हो
تم روزِ حشر کے احتساب سے بچ نہیں سکو گے۔ اگر قاتل میرا رقیب ہے تو تم ہی گواہ ہو۔
3
क्या वो भी बे-गुनह-कुश ओ हक़-ना-शनास हैं
माना कि तुम बशर नहीं ख़ुर्शीद ओ माह हो
کیا وہ بھی بے گناہ کش اور حق ناشناس ہیں؟ مان لیا کہ تم بشر نہیں، خورشید و ماہ ہو۔
4
उभरा हुआ नक़ाब में है उन के एक तार
मरता हूँ मैं कि ये न किसी की निगाह हो
ان کے نقاب میں ایک ابھرا ہوا تار ہے۔ میں اس بات سے مرتا ہوں کہ کہیں یہ کسی اور کی نظر میں نہ آ جائے۔
5
जब मय-कदा छुटा तो फिर अब क्या जगह की क़ैद
मस्जिद हो मदरसा हो कोई ख़ानक़ाह हो
جب مے کدہ چھوٹ گیا، تو پھر جگہ کی کیا قید؟ چاہے وہ مسجد ہو، مدرسہ ہو یا کوئی خانقاہ ہو.
6
सुनते हैं जो बहिश्त की तारीफ़ सब दुरुस्त
लेकिन ख़ुदा करे वो तिरा जल्वा-गाह हो
ہم جنت کی جو بھی تعریفیں سنتے ہیں، وہ سب درست ہوں، لیکن دعا ہے کہ وہ جنت تمہارا جلوہ گاہ بن جائے۔
7
'ग़ालिब' भी गर न हो तो कुछ ऐसा ज़रर नहीं
दुनिया हो या रब और मिरा बादशाह हो
اگر غالب خود بھی نہ ہو تو کوئی خاص نقصان نہیں ہوگا۔ شاعر کی سچی خواہش ہے کہ دنیا بنی رہے اور اس کا بادشاہ ہمیشہ قائم رہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
