غزل
شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہے
شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہے
یہ غزل ایک ایسے عاشق کی حالت زار کو بیان کرتی ہے جہاں محبوب شکایت کے معمولی ذکر پر ہی ناراض ہو جاتا ہے اور گلے شکوے کا جواب مزید ستم سے دیتا ہے۔ عاشق کا دل ان کہے غموں سے بھرا ہونے کے باوجود، وہ پاتا ہے کہ اپنے درد کا اظہار ظلم کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ یہ عشق کی راہ کو آبلہ پا مسافر کے سفر کی طرح سست اور کٹھن دکھاتی ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
शिकवे के नाम से बे-मेहर ख़फ़ा होता है
ये भी मत कह कि जो कहिए तो गिला होता है
شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہے
یہ بھی مت کہہ کہ جو کہیے تو گلہ ہوتا ہے
بے مہر محبوب شکایت کے نام سے ہی خفا ہو جاتا ہے۔ اس لیے یہ بھی مت کہو کہ جو کچھ کہا جائے وہ گلہ بن جائے۔
2
पुर हूँ मैं शिकवे से यूँ राग से जैसे बाजा
इक ज़रा छेड़िए फिर देखिए क्या होता है
پر ہوں میں شکوے سے یوں راگ سے جیسے باجا
اک ذرا چھیڑئیے پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے
میں شکایتوں سے یوں بھرا ہوا ہوں جیسے کوئی باجا راگ سے پُر ہوتا ہے۔ بس ذرا سا چھیڑیے، پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے۔
3
गो समझता नहीं पर हुस्न-ए-तलाफ़ी देखो
शिकवा-ए-जौर से सरगर्म-ए-जफ़ा होता है
گو سمجھتا نہیں پر حسن تلافی دیکھو
شکوۂ جور سے سرگرم جفا ہوتا ہے
گو وہ سمجھتا نہیں، مگر اس کی تلافی کا حسن تو دیکھو۔ ظلم کی شکایت کرنے پر وہ مزید ظلم کرنے میں سرگرم ہو جاتا ہے۔
4
इश्क़ की राह में है चर्ख़-ए-मकोकब की वो चाल
सुस्त-रौ जैसे कोई आबला-पा होता है
عشق کی راہ میں ہے چرخ مکوکب کی وہ چال
سست رو جیسے کوئی آبلہ پا ہوتا ہے
عشق کے راستے میں ستاروں بھرے آسمان کی چال اتنی سست ہے، جیسے کوئی چھالے پڑے پاؤں والا شخص چلتا ہو۔
5
क्यूँ न ठहरें हदफ़-ए-नावक-ए-बेदाद कि हम
आप उठा लाते हैं गर तीर ख़ता होता है
کیوں نہ ٹھہریں ہدف ناوک بیداد کہ ہم
آپ اٹھا لاتے ہیں گر تیر خطا ہوتا ہے
ہم ظلم کے تیروں کا نشانہ کیوں نہ بنیں، جب کہ تیر چوک جانے پر بھی ہم اسے خود اٹھا لاتے ہیں۔
6
ख़ूब था पहले से होते जो हम अपने बद-ख़्वाह
कि भला चाहते हैं और बुरा होता है
خوب تھا پہلے سے ہوتے جو ہم اپنے بد خواہ
کہ بھلا چاہتے ہیں اور برا ہوتا ہے
خوب ہوتا اگر ہم شروع سے ہی اپنے بدخواہ ہوتے۔ کیونکہ ہم بھلا چاہتے ہیں، مگر برا ہی ہوتا ہے۔
7
नाला जाता था परे अर्श से मेरा और अब
लब तक आता है जो ऐसा ही रसा होता है
نالہ جاتا تھا پرے عرش سے میرا اور اب
لب تک آتا ہے جو ایسا ہی رسا ہوتا ہے
میرا نالہ پہلے عرش سے بھی پرے چلا جاتا تھا، لیکن اب اگر وہ صرف ہونٹوں تک بھی آ جائے تو اسے ہی مکمل اور بااثر سمجھا جاتا ہے۔
8
ख़ामा मेरा कि वो है बारबुद-ए-बज़्म-ए-सुख़न
शाह की मद्ह में यूँ नग़्मा-सरा होता है
خامہ میرا کہ وہ ہے باربد بزم سخن
شاہ کی مدح میں یوں نغمہ سرا ہوتا ہے
میرا قلم، جو بزم سخن کا باربد ہے، بادشاہ کی مدح میں اسی طرح نغمہ سرا ہوتا ہے۔
9
ऐ शहंशाह-ए-कवाकिब सिपह-ओ-मेहर-अलम
तेरे इकराम का हक़ किस से अदा होता है
اے شہنشاہ کواکب سپہ و مہر علم
تیرے اکرام کا حق کس سے ادا ہوتا ہے
اے شہنشاہ، جس کی فوج ستاروں پر مشتمل ہے اور سورج جس کا پرچم ہے، آپ کی سخاوت کا حق کون ادا کر سکتا ہے؟
10
सात अक़्लीम का हासिल जो फ़राहम कीजे
तो वो लश्कर का तिरे नाल-ए-बहा होता है
سات اقلیم کا حاصل جو فراہم کیجے
تو وہ لشکر کا ترے نعل بہا ہوتا ہے
اگر ساتوں اقلیموں کا تمام حاصل جمع کیا جائے تو وہ تمہاری فوج کی ایک آہ کا بھاؤ ہوگا۔
11
हर महीने में जो ये बद्र से होता है हिलाल
आस्ताँ पर तिरे मह नासिया सा होता है
ہر مہینے میں جو یہ بدر سے ہوتا ہے ہلال
آستاں پر ترے مہ ناصیہ سا ہوتا ہے
ہر مہینے جو چاند بدر سے ہلال بنتا ہے، وہ آپ کی چوکھٹ پر ماتھے کی طرح جھکا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
12
मैं जो गुस्ताख़ हूँ आईन-ए-ग़ज़ल-ख़्वानी में
ये भी तेरा ही करम ज़ौक़-फ़ज़ा होता है
میں جو گستاخ ہوں آئین غزل خوانی میں
یہ بھی تیرا ہی کرم ذوق فزا ہوتا ہے
غزل خوانی کے آئین میں میری جو گستاخی ہے، یہ بھی تیرا ہی کرم ہے جو ذوق کو بڑھا دیتا ہے۔
13
रखियो 'ग़ालिब' मुझे इस तल्ख़-नवाई में मुआ'फ़
आज कुछ दर्द मिरे दिल में सिवा होता है
رکھیو غالبؔ مجھے اس تلخ نوائی میں معاف
آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے
غالب، میری اِن تلخ باتوں کے لیے مجھے معاف کرنا۔ آج میرے دل میں درد بہت زیادہ ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
