غزل

رفتارِ عمر قطعِ رہِ اضطراب ہے

رفتارِ عمر قطعِ رہِ اضطراب ہے
مرزا غالب· Ghazal· 9 shers· radif: है

یہ غزل زندگی کی عارضی نوعیت اور بے چین سفر پر غور کرتی ہے۔ یہ استحکام کے زخمی ہونے اور انسانی تجربات کی وسعت کو بیان کرتی ہے، اور دنیا کے سطحی تصورات سے گمراہ نہ ہونے کی تلقین کرتی ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
रफ़्तार-ए-उम्र क़त-ए-रह-ए-इज़्तिराब है इस साल के हिसाब को बर्क़ आफ़्ताब है
رفتار عمر قطع رہ اضطراب ہے اس سال کے حساب کو برق آفتاب ہے
رفتارِ عمر اضطراب کے راستے کو مختصر کرتی ہے۔ اس سال کے حساب کے لیے، برق ہی آفتاب ہے (جو انتہائی تیزی ظاہر کرتی ہے)۔
2
मीना-ए-मय है सर्व नशात-ए-बहार से बाल-ए-तदरौ जल्वा-ए-मौज-ए-शराब है
مینائے مے ہے سرو نشاط بہار سے بال تدرو جلوۂ موج شراب ہے
شراب کا پیالہ بہار کی خوشی سے سرو کے درخت جیسا ہے۔ تیتر کا پر شراب کی لہر کا چمکتا ہوا جلوہ ہے۔
3
ज़ख़्मी हुआ है पाश्ना पा-ए-सबात का ने भागने की गूँ न इक़ामत की ताब है
زخمی ہوا ہے پاشنہ پاۓ ثبات کا نے بھاگنے کی گوں نہ اقامت کی تاب ہے
استقامت کی ایڑی زخمی ہو گئی ہے؛ نہ بھاگنے کی ہمت ہے اور نہ ٹھہرنے کی۔
4
जादाद-ए-बादा-नोशी-ए-रिन्दाँ है शश-जिहत ग़ाफ़िल गुमाँ करे है कि गेती ख़राब है
جاداد بادہ نوشی رنداں ہے شش جہت غافل گماں کرے ہے کہ گیتی خراب ہے
رندوں کی بادہ نوشی کا دائرہ تمام چھ جہتوں میں پھیلا ہوا ہے؛ غافل شخص گمان کرتا ہے کہ دنیا خراب ہے۔
5
नज़्ज़ारा क्या हरीफ़ हो उस बर्क़-ए-हुस्न का जोश-ए-बहार जल्वे को जिस के नक़ाब है
نظارہ کیا حریف ہو اس برق حسن کا جوش بہار جلوے کو جس کے نقاب ہے
اُس حُسن کی بجلی کا مقابلہ کوئی نظارہ کیسے کر سکتا ہے، جس کے جلوے کو بہار کا جوش ہی پردہ ہے۔
6
मैं ना-मुराद दिल की तसल्ली को क्या करूँ माना कि तेरे रुख़ से निगह कामयाब है
میں نا مراد دل کی تسلی کو کیا کروں مانا کہ تیرے رخ سے نگہ کامیاب ہے
میں اس ناکام دل کی تسلی کے لیے کیا کروں؟ اگرچہ میری نظر تیرے چہرے کو دیکھنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔
7
गुज़रा 'असद' मसर्रत-ए-पैग़ाम-ए-यार से क़ासिद पे मुझ को रश्क-ए-सवाल-ओ-जवाब है
گزرا اسدؔ مسرت پیغام یار سے قاصد پہ مجھ کو رشک سوال و جواب ہے
اسد محبوب کے پیغام کی مسرت میں گم ہو گیا تھا۔ لیکن مجھے اس قاصد پر سوال و جواب کرنے کے موقع کے لیے رشک آ رہا ہے۔
8
ज़ाहिर है तर्ज़-ए-क़ैद से सय्याद की ग़रज़ जो दाना दाम में है सो अश्क-ए-कबाब है
ظاہر ہے طرز قید سے صیاد کی غرض جو دانہ دام میں ہے سو اشک کباب ہے
سَیَّاد کی غرض اس کے پھنسانے کے طرز سے ظاہر ہے؛ دام میں موجود دانہ تو کباب کا اشک ہے۔
9
बे-चश्म-ए-दिल न कर हवस-ए-सैर-ए-लाला-ज़ार या'नी ये हर वरक़ वरक़-ए-इंतिख़ाब है
بے چشم دل نہ کر ہوس سیر لالہ زار یعنی یہ ہر ورق ورق انتخاب ہے
دل کی آنکھوں کے بغیر لالہ زار کی سیر کی خواہش نہ کریں، کیونکہ اس کا ہر ورق انتخاب اور گہرے معنی کا ایک ورق ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.