پینس میں گزرتے ہیں جو کوچے سے وہ میرے کندھا بھی کہاروں کو بدلنے نہیں دیتے

“When she passes through my lane carried in her palanquin, / She permits not the bearers even to switch shoulders.”

— مرزا غالب
معنی

جب وہ پالکی میں سوار ہو کر میری گلی سے گزرتے ہیں، تو کہاروں کو کندھا بدلنے کی بھی اجازت نہیں دیتے تاکہ وہاں ذرا دیر بھی نہ رکنا پڑے۔

تشریح

یہ شعر محبوب کی شوخ ادا اور دل شکن بے رخی کا بے حد خوبصورت نقشہ کھینچتا ہے۔ محبوب عاشق کی گلی سے پالکی میں یوں تیزی سے گزر جاتا ہے کہ کہاروں کو کندھا بدلنے کی مہلت تک نہیں دیتا، مبادا پالکی ایک لمحے کے لیے بھی وہاں ٹھہر جائے۔ عاشق کی تڑپ یہی ہے کہ کاش اسے محبوب کی جھلک کا ایک پل مل جائے، مگر محبوب کا یہ انداز عشق کے درد کو اور بڑھا دیتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

1 / 1