غزل
پینس میں گزرتے ہیں جو کوچے سے وہ میرے
پینس میں گزرتے ہیں جو کوچے سے وہ میرے
یہ غزل محبوب کی بے رخی، ناز و انداز اور عاشق کے تئیں اس کی سخت لاپرواہی کو بیان کرتی ہے۔ عاشق کے کوچے سے پالکی میں بغیر رکے تیزی سے گزر جانے کی تصویر کشی کے ذریعے فراق کے کرب اور محبوب کے دلکش غرور کو سلیقے سے پیش کیا گیا ہے۔
Source: rekhta · HI
ویڈیو · کلاسک
ویڈیو دیکھیں →نغمہ سنیں
1
पीनस में गुज़रते हैं जो कूचे से वो मेरे
कंधा भी कहारों को बदलने नहीं देते
پینس میں گزرتے ہیں جو کوچے سے وہ میرے
کندھا بھی کہاروں کو بدلنے نہیں دیتے
جب وہ پالکی میں سوار ہو کر میری گلی سے گزرتے ہیں، تو کہاروں کو کندھا بدلنے کی بھی اجازت نہیں دیتے تاکہ وہاں ذرا دیر بھی نہ رکنا پڑے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
