غزل
نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلی نہ سہی
نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلی نہ سہی
یہ غزل نامکمل خواہشات اور مسلسل کرب کے موضوعات کو بیان کرتی ہے، یہ ظاہر کرتی ہے کہ شاید موت بھی تسلی نہ دے سکے۔ شاعر دکھ کو گہرائی سے قبول کرنے اور اٹوٹ عقیدت کے جذبے کا اظہار کرتا ہے، کہ دلاسے یا بدلے کی عدم موجودگی کے باوجود محبت اور استقامت کا سفر جاری رہتا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
न हुई गर मिरे मरने से तसल्ली न सही
इम्तिहाँ और भी बाक़ी हो तो ये भी न सही
اگر میری موت سے بھی تسلی نہیں ہوئی تو کوئی بات نہیں۔ اور اگر مزید امتحانات باقی ہیں تو یہ (میری موت) بھی کافی نہ ہو۔
2
ख़ार ख़ार-ए-अलम-ए-हसरत-ए-दीदार तो है
शौक़ गुल-चीन-ए-गुलिस्तान-ए-तसल्ली न सही
دیدار کی حسرت کا کانٹے جیسا درد تو موجود ہے، بھلے ہی شوق تسلی کے باغ سے پھول چُننے والا نہ ہو۔
3
मय-परस्ताँ ख़ुम-ए-मय मुँह से लगाए ही बने
एक दिन गर न हुआ बज़्म में साक़ी न सही
مے پرست براہ راست شراب کے مٹکے سے پیئیں گے۔ اگر ایک دن محفل میں ساقی موجود نہ ہو تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔
4
नफ़स-ए-क़ैस कि है चश्म-ओ-चराग़-ए-सहरा
गर नहीं शम-ए-सियह-ख़ाना-ए-लैली न सही
نفسِ قیس جو صحرا کی آنکھ اور چراغ ہے، اگر وہ لیلیٰ کے سیاہ خانے کی شمع نہیں ہے تو کوئی بات نہیں۔
5
एक हंगामे पे मौक़ूफ़ है घर की रौनक़
नौहा-ए-ग़म ही सही नग़्मा-ए-शादी न सही
گھر کی رونق کسی ہنگامے پر موقوف ہے؛ خوشی کا نغمہ نہ سہی، غم کا نوحہ ہی سہی۔
6
न सताइश की तमन्ना न सिले की पर्वा
गर नहीं हैं मिरे अशआ'र में मा'नी न सही
مجھے نہ ستائش کی تمنا ہے اور نہ انعام کی پروا۔ اگر میری شاعری میں معنی نہیں ہیں تو نہ سہی۔
7
इशरत-ए-सोहबत-ए-ख़ूबाँ ही ग़नीमत समझो
न हुई 'ग़ालिब' अगर उम्र-ए-तबीई न सही
اچھی صحبت کی خوشی کو ہی غنیمت سمجھو، غالب، اگر قدرتی طویل عمر نصیب نہ ہو۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
