مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں غالبؔ یار لائے مری بالیں پہ اسے پر کس وقت

“Straining to stay open, my eyes closed forever, Ghalib; / Friends brought my beloved to my bedside, but alas, at what an hour!”

— مرزا غالب
معنی

غالب کہتے ہیں کہ انتظار میں کھولنے کی کوشش کرتے کرتے آخرکار میری آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند ہو گئیں۔ دوست محبوب کو میرے سرہانے لے تو آئے، لیکن افسوس کہ ایسے وقت لائے جب بہت دیر ہو چکی تھی۔

تشریح

اس شعر میں غالب نے وقت کے ستم اور حسرتِ دید کا بے حد پُردَرد نقشہ کھینچا ہے۔ عاشق کی نگاہیں نزع کے عالم میں بھی محبوب کے آخری دیدار کی آس میں کھلی رہنے کی جاں گسل کوشش کرتی رہیں، مگر عین اسی لمحے زندگی کی ڈور ٹوٹ گئی۔ دوست اسے سرہانے لے تو آئے، لیکن اس بے درد لمحے جب دیدار کا لمحہ ہمیشہ کے لیے ایک حسرت بن کر رہ گیا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

1 / 1