غزل
مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں غالبؔ
مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں غالبؔ
یہ غزل عشق میں حسرت، بے بسی اور وقت کے الم ناک تضاد کو بیان کرتی ہے۔ غالب اس بات کا دردناک ماتم کرتے ہیں کہ محبوب بالیں پر آیا تو سہی مگر اس وقت جب زندگی رخصت ہو رہی تھی اور آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند ہو چکی تھیں۔
Source: rekhta · HI
ویڈیو · کلاسک
ویڈیو دیکھیں →نغمہ سنیں
1
मुँद गईं खोलते ही खोलते आँखें 'ग़ालिब'
यार लाए मिरी बालीं पे उसे पर किस वक़्त
مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں غالبؔ
یار لائے مری بالیں پہ اسے پر کس وقت
غالب کہتے ہیں کہ انتظار میں کھولنے کی کوشش کرتے کرتے آخرکار میری آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند ہو گئیں۔ دوست محبوب کو میرے سرہانے لے تو آئے، لیکن افسوس کہ ایسے وقت لائے جب بہت دیر ہو چکی تھی۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
