“Lo, we stand attendant to this patient of love; if he recovers not, what cure remains for the Messiah?”
دیکھیے، ہم عشق کے مریض کی تیمارداری کر رہے ہیں؛ لیکن اگر مریض صحت یاب ہی نہ ہو تو پھر مسیحا کے پاس بھی اس کا کیا علاج ہے؟
یہاں شاعر نے بڑے دلکش اور طنزیہ انداز میں عشق کے اس روگ کا ذکر کیا ہے، جس کی دیکھ بھال کا ذمہ اس نے خود لیا ہے۔ عشق ایک ایسی لا دوا بیماری ہے جہاں شفا بانٹنے والے مسیحا کے سب معجزے بھی ناکام ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ شاعر مسکرا کر پوچھتا ہے کہ جب مریض کے اچھے ہونے کی کوئی امید ہی نہیں، تو پھر اس بےبس مسیحا کی خفت اور ناکامی کا کیا علاج کیا جائے!
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
