غزل

لو ہم مریض عشق کے بیمار دار ہیں

لو ہم مریض عشق کے بیمار دار ہیں
مرزا غالب· Ghazal· 1 shers

یہ غزل عشق کے لاعلاج روگ اور اس کی بے بسی کو بیان کرتی ہے، جس کا مداوا کسی مسیحا کے بس میں بھی نہیں۔ شاعر نے اس میں محبت کی تڑپ، درد اور سپردگی کی کیفیت کو شوخی اور لطیف رنج کے حسین امتزاج کے ساتھ پیش کیا ہے۔

Source: rekhta · HI

ویڈیو · کلاسک
ویڈیو دیکھیں →
نغمہ سنیں
رسم الخط
1
लो हम मरीज़-ए-इश्क़ के बीमार-दार हैं अच्छा अगर न हो तो मसीहा का क्या इलाज
لو ہم مریض عشق کے بیمار دار ہیں اچھا اگر نہ ہو تو مسیحا کا کیا علاج
دیکھیے، ہم عشق کے مریض کی تیمارداری کر رہے ہیں؛ لیکن اگر مریض صحت یاب ہی نہ ہو تو پھر مسیحا کے پاس بھی اس کا کیا علاج ہے؟
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.