غزل
لازم تھا کہ دیکھو مرا رستا کوئی دن اور
لازم تھا کہ دیکھو مرا رستا کوئی دن اور
یہ غزل محبوب کے مزید کچھ دن ٹھہرنے کی شدید خواہش اور تنہائی کے درد کو بیان کرتی ہے۔ شاعر محبوب کے دروازے پر اپنا ماتھا رگڑتے ہوئے بھی اپنی غیر متزلزل وفاداری کا اظہار کرتا ہے اور قیامت کے دن ملنے کے وعدے پر طنزیہ سوال اٹھاتا ہے۔ یہ غزل محبوب کی موجودگی کے لیے ایک دلگداز التجا ہے جس میں بے پناہ محبت اور جدائی کا کرب جھلکتا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
लाज़िम था कि देखो मिरा रस्ता कोई दिन और
तन्हा गए क्यूँ अब रहो तन्हा कोई दिन और
لازم تھا کہ دیکھو مرا رستا کوئی دن اور
تنہا گئے کیوں اب رہو تنہا کوئی دن اور
تمہیں کچھ اور دن میرا انتظار کرنا چاہیے تھا۔ اکیلے کیوں گئے، اب کچھ اور دن اکیلے ہی رہو۔
2
मिट जाएगा सर गर तिरा पत्थर न घिसेगा
हूँ दर पे तिरे नासिया-फ़रसा कोई दिन और
مٹ جائے گا سر گر ترا پتھر نہ گھسے گا
ہوں در پہ ترے ناصیہ فرسا کوئی دن اور
میرا سر آپ کے در پر جھکتے جھکتے گھس جائے گا اگر آپ کی دہلیز کا پتھر نہیں گھستا۔ میں کچھ اور دن آپ کے در پر ماتھا ٹیکتا رہوں گا۔
3
आए हो कल और आज ही कहते हो कि जाऊँ
माना कि हमेशा नहीं अच्छा कोई दिन और
آئے ہو کل اور آج ہی کہتے ہو کہ جاؤں
مانا کہ ہمیشہ نہیں اچھا کوئی دن اور
تم کل ہی آئے ہو اور آج ہی جانے کی بات کر رہے ہو۔ یہ مانا کہ ہمیشہ رکنا ممکن نہیں، پر ایک اور دن رک جاؤ۔
4
जाते हुए कहते हो क़यामत को मिलेंगे
क्या ख़ूब क़यामत का है गोया कोई दिन और
جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے
کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور
جاتے ہوئے تم کہتے ہو کہ ہم قیامت کے دن ملیں گے۔ کیا خوب، جیسے قیامت کا کوئی اور عام دن ہو۔
5
हाँ ऐ फ़लक-ए-पीर जवाँ था अभी आरिफ़
क्या तेरा बिगड़ता जो न मरता कोई दिन और
ہاں اے فلک پیر جواں تھا ابھی عارف
کیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور
ہاں اے فلکِ پیر، عارف ابھی جوان تھا۔ تیرا کیا بگڑتا اگر وہ چند دن اور نہ مرتا؟
6
तुम माह-ए-शब-ए-चार-दहुम थे मिरे घर के
फिर क्यूँ न रहा घर का वो नक़्शा कोई दिन और
تم ماہ شب چار دہم تھے مرے گھر کے
پھر کیوں نہ رہا گھر کا وہ نقشا کوئی دن اور
تم میرے گھر کے چودھویں شب کے چاند تھے، تو پھر گھر کا وہ نقشہ کچھ اور دن کیوں نہ رہا؟
7
तुम कौन से थे ऐसे खरे दाद-ओ-सितद के
करता मलक-उल-मौत तक़ाज़ा कोई दिन और
تم کون سے تھے ایسے کھرے داد و ستد کے
کرتا ملک الموت تقاضا کوئی دن اور
تمہارے ایسے کون سے سچے معاملات تھے کہ ملک الموت کچھ اور دن کی مہلت طلب کرتا؟ اس سے مراد ہے کہ شخص کے معاملات اتنے سچے نہیں تھے کہ اسے مزید زندگی ملتی۔
8
मुझ से तुम्हें नफ़रत सही नय्यर से लड़ाई
बच्चों का भी देखा न तमाशा कोई दिन और
مجھ سے تمہیں نفرت سہی نیر سے لڑائی
بچوں کا بھی دیکھا نہ تماشا کوئی دن اور
تمہیں مجھ سے نفرت اور نير سے لڑائی کا حق ہے، لیکن کیا تم بچوں کا تماشا کچھ مزید دن نہیں دیکھ سکتے تھے؟
9
गुज़री न ब-हर-हाल ये मुद्दत ख़ुश ओ ना-ख़ुश
करना था जवाँ-मर्ग गुज़ारा कोई दिन और
گزری نہ بہ ہر حال یہ مدت خوش و نا خوش
کرنا تھا جواں مرگ گزارا کوئی دن اور
یہ مدت، خواہ خوشی میں ہو یا غم میں، کسی بھی طرح سے گزری نہیں۔ اے جواں مرگ! مجھے کچھ اور دن گزارنے تھے۔
10
नादाँ हो जो कहते हो कि क्यूँ जीते हैं 'ग़ालिब'
क़िस्मत में है मरने की तमन्ना कोई दिन और
ناداں ہو جو کہتے ہو کہ کیوں جیتے ہیں غالبؔ
قسمت میں ہے مرنے کی تمنا کوئی دن اور
تم نادان ہو جو کہتے ہو کہ غالب کیوں زندہ ہیں۔ قسمت میں ابھی کچھ اور دن مرنے کی تمنا باقی ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
