ना-उमीदी ने ब-तक़रीब-ए-मज़ामीन-ए-ख़ुमार
कूच-ए-मौज को ख़म्याज़ा-ए-साहिल बाँधा
“Hopelessness, on pretext of languid intoxication's themes, bound the wave's path to the vast yawn of the shore.”
— مرزا غالب
معنی
نااُمیدی نے خمار کے مضامین کے بہانے، موج کے راستے کو ساحل کی خمیازہ سے باندھ دیا۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
