غزل

ہوں میں بھی تماشائی نیرنگ تمنا

ہوں میں بھی تماشائی نیرنگ تمنا
مرزا غالب· Ghazal· 1 shers

یہ غزل انسانی خواہشات کے فریب اور فلسفیانہ لاتعلقی کی خوبصورت عکاسی کرتی ہے، جہاں شاعر خود کو تمناؤں کے بدلتے رنگوں کا محض ایک محوِ حیرت تماشائی قرار دیتا ہے۔ اس میں آرزو کے پورا ہونے سے بے نیاز ہو کر زندگی اور طلب کی نیرنگیوں کو ایک دلکش تماشے کے طور پر دیکھنے کا انداز نمایاں ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
हूँ मैं भी तमाशाई-ए-नैरंग-ए-तमन्ना मतलब नहीं कुछ इस से कि मतलब ही बर आवे
ہوں میں بھی تماشائی نیرنگ تمنا مطلب نہیں کچھ اس سے کہ مطلب ہی بر آوے
میں بھی خواہشات کے رنگ برنگے تماشوں کا محض ایک دیکھنے والا ہوں، مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ میرا مقصد یا تمنا پوری ہوتی ہے یا نہیں۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.