Sukhan AI
غزل

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
مرزا غالب· Ghazal· 9 shers· radif: निकले

یہ غزل انسانی خواہشات کی لامتناہی اور ان کے اکثر ادھورے رہ جانے کے گہرے تجربے کو پیش کرتی ہے، جہاں ہر خواہش اتنی شدید ہوتی ہے کہ جان نکال دیتی ہے۔ یہ زندگی کے فطری دکھوں اور ان گنت آرزوؤں کے پیچھے بھاگنے کی بے سودگی کے سامنے گہری تسلیم کو ظاہر کرتی ہے، خواہ ان میں سے کئی پوری بھی ہو جائیں۔ شاعر مسلسل دل شکنی اور آنسوؤں سے بھری زندگی پر غور کرتا ہے، جہاں جذباتی 'خون' لگاتار بہتا رہتا ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
हज़ारों ख़्वाहिशें ऐसी कि हर ख़्वाहिश पे दम निकले बहुत निकले मिरे अरमान लेकिन फिर भी कम निकले
ہزاروں خواہشیں ایسی ہیں کہ ہر خواہش پر دم نکل جائے۔ میرے بہت سے ارادے پورے ہوئے لیکن پھر بھی وہ کم ہی لگے۔
2
डरे क्यूँ मेरा क़ातिल क्या रहेगा उस की गर्दन पर वो ख़ूँ जो चश्म-ए-तर से उम्र भर यूँ दम-ब-दम निकले
میرا قاتل کیوں ڈرے، اس کی گردن پر وہ خون کیسے رہے گا جو میری نم آنکھوں سے ساری عمر یوں مسلسل بہتا رہتا ہے؟
3
निकलना ख़ुल्द से आदम का सुनते आए हैं लेकिन बहुत बे-आबरू हो कर तिरे कूचे से हम निकले
ہم آدم کے جنت سے نکالے جانے کی بات سنتے آئے ہیں، لیکن ہم تو تیرے کوچے سے بہت بےآبرو ہو کر نکلے۔
4
भरम खुल जाए ज़ालिम तेरे क़ामत की दराज़ी का अगर इस तुर्रा-ए-पुर-पेच-ओ-ख़म का पेच-ओ-ख़म निकले
اے ظالم، تیرے قامت کی درازی کا بھرم کھل جائے گا، اگر اس پُرپیچ و خم زلف کا پیچ و خم نکل جائے۔
5
मगर लिखवाए कोई उस को ख़त तो हम से लिखवाए हुई सुब्ह और घर से कान पर रख कर क़लम निकले
اگر کوئی اسے خط لکھوانا چاہے تو وہ ہم سے لکھوائے۔ صبح ہوئی اور میں کان پر قلم رکھ کر گھر سے نکلا۔
6
हुई इस दौर में मंसूब मुझ से बादा-आशामी फिर आया वो ज़माना जो जहाँ में जाम-ए-जम निकले
اس دور میں شراب نوشی مجھ سے منسوب کی گئی۔ پھر وہ زمانہ آیا جب دنیا میں جامِ جم نمودار ہوا۔
7
हुई जिन से तवक़्क़ो' ख़स्तगी की दाद पाने की वो हम से भी ज़ियादा ख़स्ता-ए-तेग़-ए-सितम निकले
جن لوگوں سے ہمیں اپنے زخموں کی داد رسی کی توقع تھی، وہ ہم سے بھی زیادہ ستم کی تلوار کے زخم خوردہ نکلے۔
8
मोहब्बत में नहीं है फ़र्क़ जीने और मरने का उसी को देख कर जीते हैं जिस काफ़िर पे दम निकले
محبت میں جینے اور مرنے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ہم اسی کافر کو دیکھ کر جیتے ہیں جس پر ہمارا دم نکلے۔
9
कहाँ मय-ख़ाने का दरवाज़ा 'ग़ालिब' और कहाँ वाइ'ज़ पर इतना जानते हैं कल वो जाता था कि हम निकले
اے غالب، میخانے کا دروازہ کہاں اور واعظ کہاں۔ مگر ہم اتنا جانتے ہیں کہ کل جب ہم نکلے تو وہ جا رہا تھا۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے | Sukhan AI