हुजूम-ए-फ़िक्र से दिल मिस्ल-ए-मौज लरज़े है
कि शीशा नाज़ुक ओ सहबा-ए-आबगीन-गुदाज़
“My heart trembles like a wave from thought's dense throng,For fragile is the glass, and wine dissolves the glass.”
— مرزا غالب
معنی
ہجومِ فکر سے میرا دل موج کی طرح کانپ رہا ہے۔ کیونکہ دل شیشے کی طرح نازک ہے اور افکار ایسی شراب ہیں جو شیشے کو بھی پگھلا سکتی ہیں۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
