ہے یاس میں اسدؔ کو ساقی سے بھی فراغت دریا سے خشک گزرے مستوں کی تشنہ کامی

“In despair, 'Asad' finds release even from the cup-bearer; The thirst of the intoxicated passed by the river as if it were dry.”

— مرزا غالب
معنی

مایوسی میں 'اسد' کو ساقی سے بھی کوئی پرواہ نہیں۔ مستوں کی پیاس دریا کے پاس سے بھی خشک ہی گزری، گویا دریا میں پانی ہی نہ ہو۔

تشریح

یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.