है यास में 'असद' को साक़ी से भी फ़राग़त
दरिया से ख़ुश्क गुज़रे मस्तों की तिश्ना-कामी
“In despair, 'Asad' finds release even from the cup-bearer; The thirst of the intoxicated passed by the river as if it were dry.”
— مرزا غالب
معنی
مایوسی میں 'اسد' کو ساقی سے بھی کوئی پرواہ نہیں۔ مستوں کی پیاس دریا کے پاس سے بھی خشک ہی گزری، گویا دریا میں پانی ہی نہ ہو۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
← Prev8 / 8
