“What was there in my house for your grief to lay to waste? Only that yearning to build anew, which still endures.”
میرے گھر میں ایسا کچھ تھا ہی نہیں جسے تمہارا غم برباد کرتا؛ بس دل میں گھر بسانے کی جو ایک حسرت تھی، وہ اب بھی باقی ہے۔
غالب اس شعر میں ایک خاص اندازِ بےنیازی اور درد بھرے طنز سے اپنے دل کی ویرانی کا احوال بیان کر رہے ہیں۔ وہ محبوب سے کہتے ہیں کہ تمہارے غم نے بھلا میرے گھر کو کیا لوٹا ہوگا، جب وہاں برباد ہونے کے لیے پہلے سے کچھ تھا ہی نہیں۔ میرے پاس تو بس اپنا آشیانہ بسانے کی ایک ادھوری آرزو تھی، اور ستم دیکھیے کہ اتنی تباہی کے بعد بھی وہ حسرت آج تک اپنی جگہ قائم ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
