غزل
گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتا
گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتا
یہ غزل بے سر و سامانی، حزن و ملال اور فلسفیانہ اندازِ بیان کی عکاسی کرتی ہے۔ مرزا غالب اس حقیقت کو بیان کرتے ہیں کہ ان کے دل اور گھر میں کھونے کے لیے کچھ نہ تھا، بس دل میں ایک حسرتِ تعمیر باقی تھی جسے محبوب کے غم نے بھی جوں کا توں رہنے دیا۔
Source: rekhta · HI
ویڈیو · کلاسک
ویڈیو دیکھیں →نغمہ سنیں
1
घर में था क्या कि तिरा ग़म उसे ग़ारत करता
वो जो रखते थे हम इक हसरत-ए-तामीर सो है
گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتا
وہ جو رکھتے تھے ہم اک حسرت تعمیر سو ہے
میرے گھر میں ایسا کچھ تھا ہی نہیں جسے تمہارا غم برباد کرتا؛ بس دل میں گھر بسانے کی جو ایک حسرت تھی، وہ اب بھی باقی ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
