है है ख़ुदा-न-ख़्वास्ता वो और दुश्मनी
ऐ शौक़-ए-मुन्फ़इल ये तुझे क्या ख़याल है
“Alas, God forbid! Him, and such enmity?O shamefaced longing, what thought possesses thee?”
— مرزا غالب
معنی
ہائے ہائے، خدا نہ کرے، وہ اور دشمنی! اے شرمسار آرزو، یہ تجھے کیا خیال آیا ہے؟
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
