उलझते हो तुम अगर देखते हो आईना
जो तुम से शहर में हों एक दो तो क्यूँकर हो
“You frown when you behold your image in the glass,For how could one or two like you through this city pass?”
— مرزا غالب
معنی
جب تم آئینہ دیکھتے ہو تو پریشان ہو جاتے ہو۔ اگر شہر میں تم جیسے ایک دو اور ہوتے تو پھر کیسے ہوتا؟
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
