غزل
دیوانگی سے دوش پہ زنّار بھی نہیں
دیوانگی سے دوش پہ زنّار بھی نہیں
یہ غزل ایک عاشق کی گہری محتاجی اور تھکن کو پیش کرتی ہے۔ شاعر افسوس کرتا ہے کہ اس کے پاس ایک معمولی دھاگہ تک نہیں، اور محبوب کے دیدار کی شدید آرزو کے باوجود اس میں دیکھنے کی ہمت باقی نہیں رہی۔ آخر کار، عشق کے بغیر زندگی گزارنا ناممکن ہے، پھر بھی شاعر میں عشق کے تلخ و شیریں عذاب کو برداشت کرنے کی بھی طاقت نہیں بچی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
दीवानगी से दोश पे ज़ुन्नार भी नहीं
या'नी हमारे जेब में इक तार भी नहीं
میری دیوانگی کی وجہ سے، میرے کندھے پر اب زُنّار (مقدّس دھاگہ) بھی نہیں ہے۔ یعنی، میری جیب میں ایک دھاگہ بھی موجود نہیں ہے۔
2
दिल को नियाज़-ए-हसरत-ए-दीदार कर चुके
देखा तो हम में ताक़त-ए-दीदार भी नहीं
ہم نے اپنے دل کو دیدار کی حسرت پر قربان کر دیا تھا۔ مگر جب دیکھا تو ہم میں دیکھنے کی طاقت ہی نہیں تھی۔
3
मिलना तिरा अगर नहीं आसाँ तो सहल है
दुश्वार तो यही है कि दुश्वार भी नहीं
اگر تم سے ملنا آسان نہیں ہے، تو یہ قبول کرنا سہل ہے۔ اصل مشکل تو یہ ہے کہ یہ مشکل بھی نہیں ہے۔
4
बे-इश्क़ उम्र कट नहीं सकती है और याँ
ताक़त ब-क़दर-ए-लज़्ज़त-ए-आज़ार भी नहीं
عشق کے بغیر زندگی گزاری نہیں جا سکتی، اور یہاں (مجھ میں) درد کی لذت کے برابر بھی طاقت نہیں ہے۔
5
शोरीदगी के हाथ से है सर वबाल-ए-दोश
सहरा में ऐ ख़ुदा कोई दीवार भी नहीं
شوریدگی کی وجہ سے میرا سر کندھے پر ایک بوجھ بنا ہوا ہے۔ اے خدا، اس صحرا میں کوئی دیوار بھی نہیں ہے۔
6
गुंजाइश-ए-अदावत-ए-अग़्यार यक तरफ़
याँ दिल में ज़ोफ़ से हवस-ए-यार भी नहीं
ایک طرف تو حریفوں کی عداوت کی کوئی گنجائش نہیں، یہاں دل میں اتنی کمزوری ہے کہ محبوب کی چاہت بھی باقی نہیں رہی۔
7
डर नाला-हा-ए-ज़ार से मेरे ख़ुदा को मान
आख़िर नवा-ए-मुर्ग़-ए-गिरफ़्तार भी नहीं
میرے کڑوے نالوں سے ڈر اور خدا کو مان۔ آخر یہ محض ایک قیدی پرندے کی آواز بھی نہیں ہے۔
8
दिल में है यार की सफ़-ए-मिज़्गाँ से रू-कशी
हालाँकि ताक़त-ए-ख़लिश-ए-ख़ार भी नहीं
میرے دل میں محبوب کی پلکوں کی قطار سے مقابلہ کرنے کی خواہش ہے، حالانکہ اس میں ایک کانٹے کی چبھن برداشت کرنے کی بھی طاقت نہیں ہے۔
9
इस सादगी पे कौन न मर जाए ऐ ख़ुदा
लड़ते हैं और हाथ में तलवार भी नहीं
اے خدا، اس سادگی پر کون نہ مر جائے؟ وہ لڑتے ہیں اور ان کے ہاتھ میں تلوار بھی نہیں ہے۔
10
देखा 'असद' को ख़ल्वत-ओ-जल्वत में बार-हा
दीवाना गर नहीं है तो हुश्यार भी नहीं
میں نے 'اسد' کو کئی بار اکیلے میں اور لوگوں کی محفل میں دیکھا ہے۔ اگر وہ دیوانہ نہیں ہے تو ہوشیار بھی نہیں ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
