Sukhan AI
غزل

دھمکی میں مر گیا جو نہ بابِ نبرد تھا

دھمکی میں مر گیا جو نہ بابِ نبرد تھا
مرزا غالب· Ghazal· 7 shers· radif: था

یہ غزل عشق کی دشواریوں کو بیان کرتی ہے، اسے ایک ایسے مسلسل جدوجہد کے طور پر پیش کرتی ہے جو سچی ہمت کا متقاضی ہے، نہ کہ ان لوگوں کا جو محض دھمکیوں سے ڈر جاتے ہیں۔ شاعر زندگی میں موت کے کھٹکے اور گہری جذباتی اذیت کا اظہار کرتا ہے، جہاں دل سے جگر تک کا سفر خون کی ندی بن گیا ہے، اور ماضی کی خوبصورتی اب محض گرد لگتی ہے۔ یہ وفاداری کو سمجھنے کی منتشر کوششوں اور زندگی بھر موت کے مسلسل سائے کو بھی منعکس کرتی ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
धमकी में मर गया जो बाब-ए-नबर्द था इश्क़-ए-नबर्द-पेशा तलबगार-ए-मर्द था
جو لڑنے والا نہیں تھا، وہ ایک دھمکی سے ہی مر گیا۔ عشق، جس کا پیشہ ہی جنگ ہے، بہادروں کو تلاش کرتا تھا۔
2
था ज़िंदगी में मर्ग का खटका लगा हुआ उड़ने से पेश-तर भी मिरा रंग ज़र्द था
پوری زندگی موت کا خوف لگا رہا۔ اُڑنے سے پہلے ہی میرا رنگ پیلا پڑا ہوا تھا۔
3
तालीफ़ नुस्ख़ा-हा-ए-वफ़ा कर रहा था मैं मजमुआ-ए-ख़याल अभी फ़र्द फ़र्द था
میں وفا کے نسخے مرتب کر رہا تھا۔ میرے خیالات کا مجموعہ ابھی بھی فرد فرد (علیحدہ علیحدہ) تھا۔
4
दिल ता जिगर कि साहिल-ए-दरिया-ए-ख़ूँ है अब इस रहगुज़र में जल्वा-ए-गुल आगे गर्द था
دل سے جگر تک اب خون کے دریا کا کنارہ ہے۔ اس راستے میں، پھول کی چمک پہلے دھول تھی۔
5
जाती है कोई कश्मकश अंदोह-ए-इश्क़ की दिल भी अगर गया तो वही दिल का दर्द था
کیا عشق کے غم کی کشمکش کبھی ختم ہوگی؟ اگر دل بھی چلا گیا تو وہی دل کا درد تھا۔
6
अहबाब चारासाज़ी-ए-वहशत कर सके ज़िंदाँ में भी ख़याल बयाबाँ-नवर्द था
میرے دوست میری وحشت کا علاج نہ کر سکے، کیونکہ قید خانے میں بھی میرا خیال بیابان میں بھٹک رہا تھا۔
7
ये लाश-ए-बे-कफ़न 'असद'-ए-ख़स्ता-जाँ की है हक़ मग़्फ़िरत करे अजब आज़ाद मर्द था
یہ بے کفن لاش اسد خستہ جاں کی ہے۔ حق مغفرت کرے، وہ عجیب آزاد مرد تھا۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.